Class 9th · Urdu · Chapter 8
Chapter 8: کتبہ
Chapter 8 of the Punjab Board Class 9th Urdu textbook runs from page 62 to 73. Open any of those pages in GenZ Books, tap a question, and the answer is worked from this chapter.
Open Chapter 8 of Urdu in GenZ Books
The same Class 9th textbook, page for page. Tap any question and get the answer worked from that chapter — English and Urdu.
A sample answer from GenZ Books
Asked · page 62: خلاصہ — کتبہ
افسانہ ”کتبہ“ غلام عباس کا ایک شاہکار افسانہ ہے جو ان کے افسانوی مجموعے ”آنندی“ سے لیا گیا ہے۔ اس افسانے کا خلاصہ درج ذیل ہے:
- شریف حسین کا پس منظر: کہانی کا مرکزی کردار شریف حسین ہے، جو ایک سرکاری دفتر میں کلرک درجہ دوم ہے۔ وہ شہر سے دور واقع سرکاری دفتروں کے ایک بڑے مرکز میں کام کرتا ہے۔ شریف حسین ایک متوسط طبقے کا انسان ہے، جس کی زندگی دفتر کی فائلیں، تانگے کا سفر اور محدود تنخواہ کے گرد گھومتی ہے۔
- کتبے کی خریداری: ایک دن دفتر سے واپسی پر شریف حسین کی نظر کباڑیوں کی دکان پر پڑتی ہے، جہاں اسے سنگِ مرمر کا ایک خوبصورت ٹکڑا ملتا ہے۔ وہ اسے محض ایک روپیہ میں خرید لیتا ہے۔ اس کے ذہن میں ایک خیال آتا ہے کہ اگر کبھی اس کی ترقی ہو جائے اور وہ اپنا ذاتی مکان بنا لے، تو اس پتھر پر اپنا نام کندہ کروا کر دروازے پر لگائے گا۔
- امنگیں اور حقیقت: شریف حسین اس پتھر پر اپنا نام کندہ کروا لیتا ہے۔ یہ کتبہ اس کے لیے مستقبل کی امیدوں اور ترقی کے خوابوں کی علامت بن جاتا ہے۔ وہ بار بار اس کتبے کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے، مگر عملی زندگی میں اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔ کبھی وہ اسے الماری میں چھپا دیتا ہے، کبھی صندوق میں اور کبھی کاٹھ کباڑ کی پیٹی میں۔
- زندگی کی جدوجہد: شریف حسین کی زندگی دفتر کی مشقت، گھریلو ذمہ داریوں اور بچوں کی پرورش میں گزر جاتی ہے۔ اسے ایک بار عارضی طور پر درجہ اول کے کلرک کی جگہ کام کرنے کا موقع ملتا ہے، جس سے اس کی امیدیں پھر جاگ اٹھتی ہیں، لیکن جلد ہی اسے اپنی پرانی حیثیت پر واپس آنا پڑتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے خواب دھندلے پڑ جاتے ہیں اور کتبہ گھر کے مختلف حصوں میں جگہ بدلتا رہتا ہے۔
- اختتام: بیس سال کی ملازمت کے بعد شریف حسین پنشن پا کر ریٹائر ہو جاتا ہے۔ بڑھاپے میں وہ بیمار پڑ جاتا ہے اور نمونیا کے باعث اس کا انتقال ہو جاتا ہے۔ اس کی موت کے بعد اس کا بڑا بیٹا جب گھر کی صفائی کرتا ہے تو اسے وہی کتبہ ملتا ہے۔ بیٹے کو اپنے باپ سے بہت محبت تھی، اس لیے وہ سنگ تراش سے اس کتبے کی عبارت میں تھوڑی ترمیم کرواتا ہے اور اسے اپنے باپ کی قبر پر نصب کر دیتا ہے۔
نتیجہ: یہ افسانہ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ انسان زندگی بھر جن خوابوں اور تمناؤں کے پیچھے بھاگتا ہے، آخر کار وہ سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔ جس کتبے کو شریف حسین نے اپنے گھر کی زینت بنانے کے لیے خریدا تھا، وہی کتبہ آخر کار اس کی قبر کی پہچان بن گیا۔ یہ کہانی غلام عباس کے گہرے مشاہدے اور انسانی نفسیات کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔
AI-generated from the chapter text by GenZ Books. It can make mistakes — check it against your textbook and your teacher.

