Class 9th · Urdu · Chapter 7
Chapter 7: آرام و سکون
Chapter 7 of the Punjab Board Class 9th Urdu textbook runs from page 50 to 61. Open any of those pages in GenZ Books, tap a question, and the answer is worked from this chapter.
Open Chapter 7 of Urdu in GenZ Books
The same Class 9th textbook, page for page. Tap any question and get the answer worked from that chapter — English and Urdu.
A sample answer from GenZ Books
Explain · page 61: ۱۹۴۷ء میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو غلام عباس بھی پاکستان آ گئے۔ کچھ عرصے بعد پنجاب ایڈوائزری بورڈ نے اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر نقد انعام سے نوازا اور حکومتِ پاکستان کے انھیں ”ستارۂ امتیاز“ کا اعزاز پیش کیا۔
آپ کے نصاب میں شامل اس عبارت کی تشریح درج ذیل ہے:
حوالۂ متن: یہ عبارت سبق ”آرام و سکون“ کے مصنف سیّد امتیاز علی تاج کے تعارف سے لی گئی ہے۔
سیاق و سباق: اس عبارت میں مصنف کے تعارف کے ضمن میں غلام عباس کی ادبی خدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کے حالات اور ان کی پاکستان آمد کا تذکرہ ہے، جس کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح سرکاری اور ادبی اداروں نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی قدردانی کی۔ یہ اقتباس مصنف کے تعارف کے اس حصے کا حصہ ہے جہاں ادیبوں کی خدمات کے اعتراف اور اعزازات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ عبارت بتاتی ہے کہ کس طرح ایک ادیب کی محنت کو معاشرے اور حکومت کی جانب سے سراہا جاتا ہے، جو نہ صرف اس ادیب کے لیے بلکہ پوری ادبی دنیا کے لیے ایک حوصلہ افزا بات ہوتی ہے۔
تشریح: مصنف بیان کرتے ہیں کہ جب ۱۹۴۷ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تو غلام عباس نے ہجرت کی اور پاکستان آ کر مستقل سکونت اختیار کر لی۔ یہ وہ دور تھا جب بہت سے اہلِ قلم اور دانشور اپنی نئی مملکت کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کا رخ کر رہے تھے۔ غلام عباس کا شمار بھی اردو کے ان ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تحریروں سے ادب کو مالا مال کیا۔
اس کے بعد مصنف بتاتے ہیں کہ پاکستان آنے کے کچھ عرصے بعد پنجاب ایڈوائزری بورڈ نے ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا۔ کسی بھی ادیب کے لیے اس کی خدمات کا اعتراف ہونا اس کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے۔ پنجاب ایڈوائزری بورڈ نے انہیں نقد انعام سے نوازا، جس کا مقصد ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں مزید تخلیقی کاموں کے لیے متحرک رکھنا تھا۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس وقت کے ادبی ادارے ادیبوں کی قدر کرنا جانتے تھے۔
مزید برآں، حکومتِ پاکستان نے بھی ان کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں ”ستارۂ امتیاز“ کے اعلیٰ اعزاز سے نوازا۔ یہ اعزاز پاکستان میں ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو۔ غلام عباس کو یہ اعزاز ملنا ان کی ادبی قد و قامت اور ان کی تحریروں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اعزازات دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک ادیب جب خلوصِ نیت سے اپنے فن کی آبیاری کرتا ہے، تو معاشرہ اور ریاست اس کی خدمات کو فراموش نہیں کرتے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ غلام عباس جیسے ادیبوں کو ملنے والے یہ اعزازات نئی نسل کے لیے بھی مشعلِ راہ ہیں۔ یہ عبارت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ محنت اور لگن سے کیا گیا کام کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ حکومت کی جانب سے ملنے والے یہ اعزازات نہ صرف ادیب کی عزتِ افزائی کا باعث بنتے ہیں بلکہ یہ ادب کی ترویج و اشاعت میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے ادب اور ادیب کا رشتہ مزید مضبوط ہوتا ہے اور معاشرے میں علم و ادب کی قدر بڑھتی ہے۔
AI-generated from the chapter text by GenZ Books. It can make mistakes — check it against your textbook and your teacher.

