Class 9th · Urdu · Chapter 3
Chapter 3: اخلاقِ حسنہ
Chapter 3 of the Punjab Board Class 9th Urdu textbook runs from page 16 to 23. Open any of those pages in GenZ Books, tap a question, and the answer is worked from this chapter.
Open Chapter 3 of Urdu in GenZ Books
The same Class 9th textbook, page for page. Tap any question and get the answer worked from that chapter — English and Urdu.
A sample answer from GenZ Books
Explain · page 17: میں رہتے تو گھر کے کام کاج اپنے ہاتھوں سے کرتے۔ اپنے پھٹے کپڑے آپ سی لیتے، اپنے پھٹے جوتے کو خود گانٹھ لیتے، بکریوں کا دودھ اپنے ہاتھوں سے دوہتے۔ مجمع میں بیٹھتے تو سب کے برابر ہو کر بیٹھتے۔ مسجدِ نبوی کے بنانے اور خندق کھودنے میں سب مزدوروں کے ساتھ مل کر آپ ﷺ نے بھی کام کیے۔
یہاں آپ کے لیے سبق "اخلاقِ حسنہ" کے منتخب کردہ نثر پارے کی تشریح بورڈ کے امتحانی طریقہ کار کے مطابق پیش کی جا رہی ہے تاکہ آپ اپنے امتحانات میں پورے نمبر حاصل کر سکیں۔
حوالۂ متن
- سبق کا نام: اخلاقِ حسنہ
- مصنف کا نام: سید سلیمان ندوی
سیاق و سباق
یہ اقتباس سبق "اخلاقِ حسنہ" کے وسط سے لیا گیا ہے۔ اس سبق میں مصنف نے نبی کریم ﷺ کے پاکیزہ اخلاق، عادات اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ اس اقتباس سے پہلے مصنف نے آپ ﷺ کی سخاوت، فیاضی، مہمان نوازی اور غریب پروری کا ذکر کیا ہے کہ آپ ﷺ خود فاقہ کر لیتے لیکن مہمانوں کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے۔ اس اقتباس کے بعد مصنف بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ انتہائی شفقت اور ہمدردی کا برتاؤ فرماتے تھے تاکہ انہیں اپنی غربت کا احساس نہ ہو اور وہ معاشرے میں خود کو اکیلا نہ سمجھیں۔
تشریح
اس نثر پارے میں مصنف سید سلیمان ندوی نبی کریم ﷺ کی بے مثال سادگی، عاجزی اور انکساری کا نقشہ کھینچ رہے ہیں۔ آپ ﷺ کائنات کے سب سے عظیم انسان اور اللہ کے آخری رسول ہونے کے باوجود اپنے ذاتی کاموں کے لیے کبھی دوسروں کے محتاج نہیں رہے۔ جب آپ ﷺ اپنے گھر تشریف لاتے تو ایک عام انسان کی طرح گھر کے کام کاج خود اپنے مبارک ہاتھوں سے انجام دیتے۔ اس میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں کوئی شرم یا عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
مصنف مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کے مبارک معمولات میں یہ شامل تھا کہ اگر آپ ﷺ کا لباس مبارک کہیں سے پھٹ جاتا تو آپ ﷺ خود اسے سوئی دھاگے سے سی لیتے تھے۔ اسی طرح اگر جوتا ٹوٹ جاتا تو کسی اور سے مرمت کرانے کے بجائے خود اسے گانٹھ لیتے (یعنی مرمت کر لیتے)۔ اپنے گھر پالی گئی بکریوں کا دودھ بھی خود اپنے ہاتھوں سے دوہتے تھے۔ یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ آپ ﷺ سادگی اور خود انحصاری کا اعلیٰ نمونہ تھے اور انہوں نے عملی طور پر ثابت کیا کہ محنت میں ہی عظمت ہے۔
اگلے جملے میں مصنف آپ ﷺ کے سماجی رویے اور برابری کے اصول پر روشنی ڈالتے ہیں۔ آپ ﷺ جب بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محفل یا کسی مجمع میں تشریف فرما ہوتے تو اپنے لیے کوئی خاص یا اونچی جگہ منتخب نہیں فرماتے تھے، بلکہ جہاں جگہ ملتی، سب کے برابر ہو کر بیٹھ جاتے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ باہر سے آنے والا کوئی اجنبی شخص پہلی نظر میں یہ پہچان نہیں پاتا تھا کہ ان میں سے اللہ کے رسول ﷺ کون سے ہیں۔ یہ عمل معاشرے میں مساوات اور برابری کا درس دیتا ہے کہ اسلام میں کوئی بڑا یا چھوٹا نہیں ہے۔
آخر میں مصنف دو اہم تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہیں: مسجدِ نبوی کی تعمیر اور غزوۂ خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی۔ ان دونوں بڑے اور کٹھن کاموں میں آپ ﷺ نے صرف احکامات جاری نہیں کیے بلکہ ایک عام مزدور کی طرح صحابہ کرام کے ساتھ مل کر مٹی اٹھائی، پتھر ڈھوئے اور خندق کھودی۔ آپ ﷺ کا یہ عمل رہتی دنیا تک کے رہنماؤں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے کہ سچا قائد وہی ہوتا ہے جو اپنے ساتھیوں کی تکالیف اور محنت میں برابر کا شریک ہو۔ اس سبق کا بنیادی مقصد ہمیں اپنے پیارے نبی ﷺ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عاجزی، محنت اور مساوات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی ترغیب دینا ہے۔
AI-generated from the chapter text by GenZ Books. It can make mistakes — check it against your textbook and your teacher.

