Class 9th · Urdu · Chapter 2
Chapter 2: نعت (نظم)
Chapter 2 of the Punjab Board Class 9th Urdu textbook runs from page 11 to 15. Open any of those pages in GenZ Books, tap a question, and the answer is worked from this chapter.
Open Chapter 2 of Urdu in GenZ Books
The same Class 9th textbook, page for page. Tap any question and get the answer worked from that chapter — English and Urdu.
A sample answer from GenZ Books
Explain · page 14: سب سے اعلیٰ تری سرکار ہے، سب سے افضل میرے ایمانِ مفصّل کا یہی ہے مجمل چناں چہ یا رسول اللہ ﷺ! جس کی دنیا میں کوئی مثال یا نظیر نہیں وہ بے شائبہ آپ ﷺ کی ذاتِ پاک ہے۔ یعنی باری تعالیٰ نے آپ ﷺ کو صرف اسی دنیا کے لیے نہیں بلکہ دنیا و آخرت دونوں جہانوں کے لیے باعثِ رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
حوالہ نعت – مولانا ظفر علی خان
تشریح
> سب سے اعلیٰ تری سرکار ہے، سب سے افضل میرے ایمانِ مفصّل کا یہی ہے مجمل > > چناں چہ یا رسول اللہ ﷺ! جس کی دنیا میں کوئی مثال یا نظیر نہیں وہ بے شائبہ آپ ﷺ کی ذاتِ پاک ہے۔
- سب سے اعلیٰ تری سرکار ہے
- شاعر یہاں نعت کے ذریعے رسولِ کریم ﷺ کی اعلیٰ حیثیت کو بیان کرتا ہے۔
- “سرکار” سے مراد حکمرانی یا رکنیت، اور “عالیٰ” سے مطلب ہے سب سے بلند۔
- مطلب یہ ہے کہ سب سے بلند مقام آپ ﷺ کی حکمرانی میں ہے۔
- یہ ایک استعارہ (metaphor) ہے جس میں “سرکار” کو اللہ کی حکمرانی کے ساتھ جوڑا گیا ہے، تاکہ یہ واضح ہو کہ رسول ﷺ کی حکمرانی اللہ کی حکمرانی سے بھی بلند ہے۔
- سب سے افضل میرے ایمانِ مفصّل کا یہی ہے مجمل
- “افضل” کا مطلب ہے بہترین، اور “مفصّل” سے مراد وہ ایمان جو تفصیل سے سمجھا گیا ہو۔
- “مجمل” کا مطلب مکمل، جامع۔
- شاعر کہہ رہا ہے کہ میرے مکمل اور تفصیلی ایمان کا بہترین حصہ یہی ہے – یعنی رسول ﷺ کی محبت اور ان کی صفات کو اپنے ایمان کا مرکز بنانا۔
- یہ ایک تشبیہ (simile) بھی ہے جہاں “افضل” کو “مجمل” سے جوڑا گیا ہے، تاکہ بہترین اور مکمل کا امتزاج واضح ہو۔
- چناں چہ یا رسول اللہ ﷺ!
- “چناں چہ” ایک عربی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے “میں پوچھ رہا ہوں” یا “میں حیران ہوں”۔
- شاعر یہاں اپنے اندرونی سوال اور حیرت کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ نعت میں عام ہے۔
- جس کی دنیا میں کوئی مثال یا نظیر نہیں
- “مثال” اور “نظیر” دونوں کا مطلب ہے “نمونہ” یا “مثالِ حسن”۔
- شاعر کہہ رہا ہے کہ رسولِ کریم ﷺ کی شان کا کوئی بھی مثالِ دنیا میں نہیں۔
- یہ ایک استعارہ ہے جس میں “مثال” کو ایک ایسی چیز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جو کسی کو متفق نہ کر سکے۔
- وہ بے شائبہ آپ ﷺ کی ذاتِ پاک ہے
- “بے شائبہ” کا مطلب ہے بے عیب، بے نقص۔
- “ذاتِ پاک” سے مراد وہ خالص اور مقدس وجود جو رسول ﷺ کا ہے۔
- شاعر یہ واضح کر رہا ہے کہ رسولِ کریم ﷺ کی ذات بے عیب اور خالص ہے۔
- یہ بھی ایک استعارہ ہے جہاں “ذاتِ پاک” کو ایک ایسی صفات کے طور پر دکھایا گیا ہے جو ہر طرح کے نقص سے پاک ہے۔
مجموعی طور پر یہ دو اشعار نعت کے بنیادی مقصد کو ظاہر کرتے ہیں: رسولِ کریم ﷺ کی اعلیٰ، بے عیب اور بے مثال حیثیت کو بیان کرنا۔ شاعر نے اپنی زبان میں استعارہ اور تشبیہ کا استعمال کر کے یہ واضح کیا کہ رسول ﷺ کی محبت اور صفات کو اپنے ایمان کا مرکز بنانا ہی سب سے بہترین اور مکمل راستہ ہے۔ یہ پیغام پوری نعت کے موضوع – رسول ﷺ کی عظمت اور محبت – کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔
AI-generated from the chapter text by GenZ Books. It can make mistakes — check it against your textbook and your teacher.

