Class 9th · Urdu · Chapter 19
Chapter 19: کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا (غزل)
Chapter 19 of the Punjab Board Class 9th Urdu textbook runs from page 136 to 138. Open any of those pages in GenZ Books, tap a question, and the answer is worked from this chapter.
Open Chapter 19 of Urdu in GenZ Books
The same Class 9th textbook, page for page. Tap any question and get the answer worked from that chapter — English and Urdu.
A sample answer from GenZ Books
Explain · page 136: ۳۔ طلبہ کو پروین فنا سیّد کے کلام کی پسندیدگی کی وجہ بتانا۔
حوالۂ متن سبق: ۱۹ – غزل مقاصدِ تدریس ۳۔ طلبہ کو پروین فنا سیّد کے کلام کی پسندیدگی کی وجہ بتانا۔
تشریح
یہ مقصد اس لیے رکھا گیا ہے تاکہ طلبہ نہ صرف پروین فنا سیّد کی شاعری کو پڑھیں بلکہ اس کے ساتھ ایک ذاتی تعلق بھی بنائیں۔ پروین فنا سیّد کی غزلیں عام طور پر انسانی جذبات، سماجی مسائل اور روحانی سوچ کو ایک ساتھ ملاتی ہیں۔ اس مقصد کے تحت طلبہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی پسندیدہ اشعار کو منتخب کریں اور اُن میں موجود مضمون، زبان، اور انداز کو سمجھ کر اس بات کا جواز پیش کریں کہ وہ اشعار کیوں متاثر کن ہیں۔
- مضمون کی گہرائی
پروین فنا سیّد کی شاعری میں اکثر محبت، جدائی، اور انسانی رشتوں کے پیچیدہ پہلوؤں کو چھوا جاتا ہے۔ طلبہ کو یہ سمجھانا ہوگا کہ یہ موضوعات کیوں عام لوگوں کے دل کو چھو جاتے ہیں۔ مثلاً، غزل میں “سفینے کو اُتارا” کی تصویر، طوفان اور ساحل کی تمثیلات، اور “رازِ بقا” کی باتیں انسان کی اندرونی دنیا کو جھلک دیتی ہیں۔
- زبان اور انداز
ان کی زبان سادہ مگر گہری ہوتی ہے۔ وہ عام الفاظ میں گہری معنی چھپاتے ہیں۔ طلبہ کو یہ بتانا ہوگا کہ کس طرح سادہ لفظوں میں بھی گہری تشبیہ، استعارہ، اور تلمیح پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، “آدابِ جفا” میں “جفا” کا استعمال محبت کی تلخی کو ظاہر کرتا ہے۔
- تصویری اور سمعی اثر
غزل میں استعمال ہونے والی تصویری زبان، جیسے “موجوں نے اُبھارا” اور “سفینے کو اُتارا”، طلبہ کو بصری اور سمعی دونوں طرح کے اثرات کا احساس دلاتی ہے۔ اس مقصد کے تحت طلبہ کو یہ بتانا ہوگا کہ یہ تصویریں کیسے شعور کو متحرک کرتی ہیں اور شاعری کو مزید یادگار بناتی ہیں۔
- شخصی تعلق
آخر میں، طلبہ کو اپنی ذاتی تجربات اور احساسات کو شاعری سے جوڑنا سکھایا جاتا ہے۔ جب وہ اپنی زندگی کے کسی واقعے کو غزل کے کسی مصرعے سے ملاتے ہیں، تو وہ شاعری کی پسندیدگی کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
یہ مقصد طلبہ کو نہ صرف شاعری کی فنی خصوصیات سے آگاہ کرتا ہے بلکہ انہیں اپنی سوچ اور احساسات کو شاعری کے ذریعے بیان کرنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔ اس طرح، پروین فنا سیّد کی شاعری کو ایک زندہ اور قابلِ فہم فن کے طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
AI-generated from the chapter text by GenZ Books. It can make mistakes — check it against your textbook and your teacher.

