Class 9th · Urdu · Chapter 12
Chapter 12: محنت کی برکات (نظم)
Chapter 12 of the Punjab Board Class 9th Urdu textbook runs from page 99 to 106. Open any of those pages in GenZ Books, tap a question, and the answer is worked from this chapter.
Open Chapter 12 of Urdu in GenZ Books
The same Class 9th textbook, page for page. Tap any question and get the answer worked from that chapter — English and Urdu.
A sample answer from GenZ Books
Explain · page 99: مَشَقَّت کی ذِلّت جنھوں نے اُٹھائی جہاں میں ملی اُن کو آخر بڑائی کسی نے بغیر اس کے ہرگز نہ پائی فضیلت، نہ عزّت، نہ فرماں روائی نہال اس گلستاں میں جتنے بڑھے ہیں ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں
حوالہ: نظم “محنت کی برکات” – مولانا خواجہ الطاف حالیؔ
تشریح
متن > مَشَقَّت کی ذِلّت جنھوں نے اُٹھائی > جہاں میں ملی اُن کو آخر بڑائی > کسی نے بغیر اس کے ہرگز نہ پائی > فضیلت، نہ عزّت، نہ فرماں روائی > نہال اس گلستاں میں جتنے بڑھے ہیں > ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں
پہلا مصرع – “مشقت کی ذلت جنہوں نے اُٹھائی” یہاں مشقت (محنت، سخت محنت) کو ایک ذلت (ذلت، رسوأی) کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ شاعر استعارہ استعمال کر کے کہتا ہے کہ جو لوگ محنت کی سختی کو برداشت کر کے اس کی “ذلت” کو اٹھاتے ہیں، یعنی وہ اپنی محنت کے باعث معاشرتی یا ذاتی رسوأی کو قبول کرتے ہیں۔
دوسرا مصرع – “جہاں میں ملی اُن کو آخر بڑائی” اس کے بعد شاعر واضح کرتا ہے کہ یہی لوگ، جو مشقت کو قبول کرتے ہیں، دنیا میں بڑائی (عظمت، مقام) حاصل کرتے ہیں۔ یہاں “بڑائی” کا مطلب ہے کہ محنت کے بعد ان کی قدر و منزلت بڑھ جاتی ہے۔
تیسرا اور چوتھا مصرع – “کسی نے بغیر اس کے ہرگز نہ پائی / فضیلت، نہ عزّت، نہ فرماں‑روائی” یہ دو مصرعیں تضاد (مراعات النظیر) پیش کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ بغیر مشقت کے کوئی بھی فضیلت (نیک عمل)، عزّت (عزتِ نفس) اور فرماں‑روائی (اخلاقی پابندی) حاصل نہیں کر سکتا۔ یہاں بغیر کا استعمال اس بات پر زور دیتا ہے کہ محنت کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔
پانچواں اور چھٹا مصرع – “نہال اس گلستاں میں جتنے بڑھے ہیں / ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں” گلستاں (باغ) کی تصویر کشی ایک تشبیہ ہے؛ محنت کرنے والوں کو ایسے پھولوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو “نہال” (پُرپُر، خوشحال) ہیں۔ یہ پھول “نیچے سے اوپر چڑھے ہیں” یعنی کمزور یا نچلے مقام سے شروع ہو کر اوپر کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس سے شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ محنت کے ذریعے انسان اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر ترقی کر سکتا ہے۔
کل ملا کر نظم کا یہ حصہ واضح طور پر محنت (مشقت) کو عزت و فضیلت کا ذریعہ بناتا ہے۔ شاعر نے استعارہ (مشقت کی ذلت) اور تشبیہ (گلستاں کے پھول) کے ذریعے یہ خیال پیش کیا ہے کہ محنت کے بغیر کوئی حقیقی کامیابی، اخلاقی بلندی یا معاشرتی مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ اس لیے طلبہ کو چاہیے کہ وہ محنت کو اپنی زندگی کا لازمی جز سمجھیں اور اس کے ذریعے اپنی ذات کو اوپر اٹھائیں۔
اہم نکات
- مشقت = سخت محنت
- ذلت = رسوأی، مگر یہاں محنت کی آزمائش کے طور پر استعمال ہوئی ہے
- بڑائی = عظمت، مقام
- فضیلت، عزّت، فرماں‑روائی = نیک اخلاق، خود‑اعتمادی، اصولِ زندگی
- گلستاں = باغ، محنت کرنے والوں کی مثال
- نیچے سے اوپر چڑھنا = ترقی، ارتقاء
یہ تشریح آپ کو نظم کے اس حصے کی گہرائی سمجھنے اور اس کے ادبی آلات کی شناخت میں مدد دے گی۔ محنت ہی اصل “برکت” ہے جو ہر انسان کو بلند مقام تک لے جاتی ہے۔
AI-generated from the chapter text by GenZ Books. It can make mistakes — check it against your textbook and your teacher.

