Class 9th · Islamiat · Chapter 2
Chapter 2: ایمانیات و عبادات
Chapter 2 of the Punjab Board Class 9th Islamiat textbook runs from page 16 to 44 and covers 9 topics. Open any of those pages in GenZ Books, tap a question, and the answer is worked from this chapter.
Open Chapter 2 of Islamiat in GenZ Books
The same Class 9th textbook, page for page. Tap any question and get the answer worked from that chapter — English and Urdu.
Topics in this chapter
- (الف)(1)عقیدۂ توحیدp. 16
- (الف)(2)عقیدۂ رسالتp. 20
- (الف)(3)ملائکہ (فرشتے)p. 23
- (الف)(4)کُتبِ سماویہ (آسمانی کتابیں)p. 25
- (الف)(5)عقیدۂ آخرتp. 29
- (ب)(1)نمازp. 33
- (ب)(2)روزہp. 36
- (ب)(3)زکٰوۃp. 39
- (ب)(4)حج اور قربانیp. 42
A sample answer from GenZ Books
Solve · page 24: 3۔ تفصیلی جواب دیں۔ (i) ملائکہ پر ایمان کے حوالے سے ایک جامع نوٹ تحریر کریں۔ سرگرمیاں ◉ قرآن و سنت میں مذکور چند فرشتوں کے نام لکھیں اور ان کی ذمّے داریوں سے متعلق فہرست تیار کریں۔ ◉ اساتذہ کرام طلبہ کے مابین تعلیم و تعلّم کے آداب پر خاکہ تیار کروائیں۔
ملائکہ پر ایمان کے بارے میں جامع نوٹ
- تعریف اور بنیادی حقائق
- فرشتے اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق ہیں۔
- وہ اللہ کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور بشری صفات جیسے کھانا‑پینا، سونا‑جاگنا، اور غلطی‑خطا سے پاک ہیں۔
- فرشتے بے معصوم، بے خوف، بے دلی، بے عیب اور بے اختیار ہیں؛ ان پر اللہ کے احکام کا پابند ہونا لازمی ہے۔
- ایمان کا جزو
- ایمان میں اللہ، فرشتے، آسمانی کتابیں، رسول، قیامت کے دن، اور اچھی‑بری تقدیر پر ایمان شامل ہے۔
- قرآن میں فرمایا گیا ہے:
> يُسَبِّحُونَ الَّيْلَ وَالنَّّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ (سورۃ الانبیاء: 20) ترجمہ: وہ دن اور رات تسبیح بیان کرتے ہیں، وہ سستی نہیں کرتے۔
- فرشتوں کی صفات
- بے معصوم: کوئی گناہ نہیں۔
- بے خوف: اللہ کے حکم سے ڈرتے نہیں۔
- بے دلی: کوئی خواہش یا خواہش نہیں۔
- بے عیب: کوئی نقص نہیں۔
- فرشتوں کی ذمّے داریاں
| فرشتہ | ذمّے داری |
|---|---|
| حضرت جبریل علیہ السلام | وحی، قرآن کی نزول، تعلیم و تعلّم کے آداب |
| حضرت میکائیل علیہ السلام | رزق کا انتظام، موسم و بارش |
| حضرت عزرائیل علیہ السلام (ملکِ الموت) | روح قبض، موت کا اعلان |
| حضرت اسرافیل علیہ السلام | قیامت کے دن صور پھونکنا |
| ملکُ القبر (مُنکر نکیر) | قبر میں سوال کرنا |
| کِرَامًا کَاتِبِین | انسان کے اعمال کا ریکارڈ رکھنا اور اللہ کے حضور پیش کرنا |
- اسلامی تعلیم و تعلّم کے آداب (حکمتِ جبریل)
- استاد کی خدمت میں: صاف ستھرا لباس، وقت پر پہنچنا۔
- کمرۂ جماعت میں: استاد کے قریب بیٹھنا، ادب سے بیٹھنا۔
- سوالات: واضح، مختصر، اور ایسے جو تمام طلبہ کو فائدہ دیں۔
- جواب: جامع، واضح، اور غیر ضروری سوالات سے بچنا۔
- حضورِ اکرم ﷺ کا فرمان: “تعلیم و تعلّم میں دنیا کے ساتھ آخرت کو بھی پیشِ نظر رکھنا”۔
- اساتذہ کرام اور طلبہ کے مابین آداب
- اساتذہ:
- طلبہ کا احترام، صبر، اور حوصلہ افزائی۔
- واضح وضاحت، اور سوالات پر توجہ۔
- طلبہ:
- استاد کے سامنے ادب، توجہ، اور سوالات میں مختصر رہنا۔
- استاد کے وقت کا خیال رکھنا اور غیر ضروری سوالات سے بچنا۔
خلاصہ ملائکہ پر ایمان اسلام کا بنیادی جزو ہے۔ ان کی صفات اور ذمّے داریاں قرآن و سنت میں واضح کی گئی ہیں۔ تعلیم و تعلّم کے آداب، خصوصاً جبریل علیہ السلام کی حدیثِ جبریل کے مطابق، استاد اور طلبہ دونوں کے لیے اخلاقی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
AI-generated from the chapter text by GenZ Books. It can make mistakes — check it against your textbook and your teacher.

